بس ناپ تول میں کمی کرتے تھے پیٹ کی آگ دنیا میں لگنے والی اور لگای جانے والی تمام آگوں سے بڑھ کے ہے آپ سب نے سنا ہی ہو گا کہ
بس ناپ تول میں کمی کرتے تھے
پیٹ کی آگ دنیا میں لگنے والی اور لگای جانے والی تمام آگوں سے بڑھ کے ہے آپ سب نے سنا ہی ہو گا کہ
بندے روٹی کی کھانی اے
روٹی بندہ کھا جاندی اے
روز آفرینش سے آج تک انسان اس پیٹ کی آگ کو بجھانے کے جتن میں زمین آسمان ایک کرتا پھر رہا ہے، ہجرت بھی اسی پاپی پیٹ کو بھرنے کی ہی ایک کڑی ہے. اور اسی روزی روٹی کے چکر میں ہم صبح سے شام کرتے کرتے خاک ہو جاتے ہیں.
درد اور راکھ ہو جاتے ہیں
خاک میں خاک ہو جاتے ہیں
سعی ناکام کی تھکن لے کر
لوگ بے نام ہی سو جاتے ہیں
بڑے بڑے خواب، بڑے بڑے خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیتے دیتے ہم کتنے لہو لہان ہوتے ہیں ناں؛ ور پھر بھی خواب ادھورے رہ ہی جاتے ہیں یا پھر ٹوٹ جاتے ہیں
خواب ادھورے رہ جاتے ہیں
آدھے پورے رہ جاتے ہیں
اپنے دیس کو چھوڑنے والے
لوگ بے نورے رہ جاتے ہیں
پردیسی نوٹ تو وافر کما لیتے ہیں مگر اپ ے دیس سے دوری ان میں عجیب طرح کی محرومی اور کمی کو دھیرے دھیدے پروان چڑھاتی ریتی ہے کہ پردیسی نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن کے جیون نامی قید کی بیڑیاں پہنے پہنے آخر کو بالکل ہی آزاد ہو جاتا ہے.
رزق کا وعدہ اللہ پاک نے ہر جاندار سے کر رکھا ہے اور ہر جاندار کو کسی نہ کسی حیلے وسیلے سے اس کے رزق کی فراہمی بھی ہو رہی ہے تو پھر انسان خواہ مخواہ ہی بے ایمانی کاسہارا لے کر کیوں اللہ پاک کے بتاے ہوے احکامات سے سرتابی کا مرتکب ہو کے اپنے گناہوں میں خواہ مخواہ کے گناہوں میں اضافے کی وجہ کیوں بن رہا ہے بڑی بڑی لش پش دوکانیں سجا کے بیٹھے ہوے دوکاندار جنہیں جایز طریقے سے ہی معقول منافع مل جاتا ہے جانے کیوں بے پناہ منافع خوری کے لیے نہ صرف غیر معیاری سامان فروخت کرتے ہیں بلکہ ضرورت َسے زیادہ منافع خوری کے مرتکب بھی ہوتے ہیں اور ماپ تول میں کمی کو تو یہ دوکاندار عین اپنا حق سمجھتے ہیں. اہل مدین کے تاجر جب اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوے تو اہل مدین کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام نے انھیں اس قبیح فعل سے بار بار منع کیا مگر اہل مدین کے کان پہ جوں تک نہ رینگی اور پھر وہ شدید زلزلے کی لپیٹ میں آ کر نیست و نا بود ہو گیے اور رہتی دنیا تک کے لیے نشانہ عبرت بن گیے. چلیں وہ تو صدیوں پرانا قصہ ہوا مگر آج کے ترقی یافتہ دور میں جب رسالت کے باب کا خاتمہ ہو چکا ہے تمام تعلیمات رسول عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے امت تک قرآن مجید کے توسط سے باضابطہ طور پر پہنچای جا چکی ہیں. پھر لوگ کیوں اسلامی تعلیمات سے نظریں چرا کے بے ایمانی کے ماحول کو گرم رکھنے پہ. مصر ہیں فرح نثار ایک شرٹ کے ساتھ ٹراوزر ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلکان ہو چکی تھیں میچنگ ملنا تقریباً ناممکن ہی لگ رہا تھا اچانک پینتالیس منٹ کی بھاگ دوڑ کے بعد انھیں اپنی شرٹ کے ساتھ میچ کرتا ہوا ہلکا انگوری رنگ مل ہی گیا انھیں یک گونہ تسلی ہوئی مگر ٹراوزر کی قیمت سن کر ان کی پریشانی چار گنا بڑھ گءی شاید دوکاندار بھانپ چکا تھا کہ مسز نثار کے پاس اس ٹراوزر کو خریدنے کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں دوکاندار بولا یقین مانیے باجی ہمیں ذرا بھی بچت نہیں اس قیمت پہ ٹراوزر بیچنے میں، فرح نثار کے منہ سے اچانک ہی نکل گیا میرا اللہ جانتا ہے کہ تم کتنا ناجائز منافع لے رہے ہو دوکاندار کا رنگ نیلا کالا پڑ گیا بولا باجی ہم کاروبار میں اللہ کو نہیں لاتے فرح نثار نے متانت سے کہا دنیا اور کاروبار دنیا اللہ ہی کے بناے ہوئے مروجہ اصولوں پہ چل رہا ہے اور میرا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ تم درست کر رہے ہو یا غلط کیونکہ کاروبار میں لوٹ مار کی اجازت نہیں ہے. اور اگر لوگوں کو اللہ کے اس پیغام کی سمجھ آ جاتی تو شاید نہ ہی لین دین میں بے ایمانی پہ بستیاں برباد ہوتیں نہ ہی لوگ لوگوں کا خون چوستے
جونکاں وانگ چمڑ گیے سارے
جھوٹے جتے سچے… ہارے
ڈاکٹر پونم گوندل لاہورnaureendoctorpunnam@gmail.com