میرا اللہ سب سے پوچھے گا
میرا اللہ سب سے پوچھے گا
جب اللہ نے مٹی کے پتلے میں روح پھونکی ہو گی تو یہی سوچا ہو گا کہ اس تخلیق کے معرض وجود میں آنے کے بعد جو دنیا وجود میں آے گی وہاں امن و سکون کی بانسری بجے گی، خوشیوں کے شادیانے بجیں گے لوگ جی بھر کے گنگنایں گے، دھیمے دھیمے سے مسکرایں گے، غم. کبھی بھی نہ پاس آءیں گے.
غور فرمائیے گا اللہ نے جب آدم کو تخلیق کیا تھا تو فلسفہ حیات کی بنیاد محبت پہ رکھی تھی اور اسی فلسفہ حیات کی تشریح ہر زمانے کے شاعر، ادیب، دانشور، مصور، سادھو اور درویش نے اپنے اپنے طریقے سے جی بھر کے کی. جیسے
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو
خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
یا پھر
مندر ڈھا دے
مسجد ڈھا دے
ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں
دل وچ رب وے رہیندا
یاپھر
گھر سے مسجد ہے بہت دور
چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو
ہنسا کر دیکھیں
تو زندگی کا مقصد دوسرے انسانوں کو خون کے آنسو رلانا نہ تھا بلکہ انسانوں کی میں خوشیوں کے پھول کھلانا تھا. دنیا کی ٹیرھی میڑھی پگڈنڈی پہ اندھیاروں کے بیچ
دییے سے دیا جلا کے روشنیوں سے رستے روشن کرنا ہی زندگی کی معراج تھا مگر نجانے مٹی کے پتلے میں روح اللہ کے پھونکنے کے باوجود کیا کمی رہ گءی کیا کوتاہی ہو گءی کہ انسان، اپنے ہی جیسے انسان کے خون کا پیاسا ہو گیا دھرتی ماں کا کلیجہ اس لہو کو پی پی کر لہو لہان ہو چکا ہے. ماں کتنی دکھی ہے بتایا نہیں جا سکتا قابیل سے شروع ہونے والی داستاں ختم ہونے میں آ ہی نہیں رہی، نظر اٹھا کے جہاں بھی دیکھ لیں انسان ہی انسان کے خون کا پیاسا ہو چکا ہے اور یہ خون کی ہولی روز اول سے اب تلک جاری ہے موجودہ دور میں بھی سپر پاورز ترقی پذیر ممالک پہ حیلے بہانوں سے قبضہ کر کے ناجائز طاقت کا استعمال کر تے ہوے کءی معصوم جانوں کی جانوں سے کھیل جاتی ہیں. عراق، افغانستان ہو یا وادی کشمیر، ارے فلسطین کو دیکھ لیجیے جہاں چند دنیا کے ٹھکراے ہوے لوگوں کو پناہ دینے والوں کو ہی اپنے ہی گھر میں بری طرح مارا گیا، نسل کشی کی گءی، بچیوں اور خواتین کی بے حرمتی کی گءی بے شک حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول سچ ثابت ہو ا کہ جس پہ نیکی کرو اس کے شر سے بچو. کچھ ایسا ہی سلسلہ یہاں وہاں، اوپر نیچے چل رہا ہے اور کوئی اس ظلم و بربریت کے خلاف دو لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں ہاں امت مسلمہ پہ ظلم کی انتہا ہی ہو گءی کربلا کے میدان سے فلسطین کے جہان تلک کتنا خون بہاو گے
کربلا کی خاک سے
شام کے جہان تک
افغانی قافلے سے
فلسطینی نظام تک
کتنے لوگ مارو گے
کتنے سر اتارو گے
کتنا اتراو گے
کتنے ظلم ڈھاو گے
رب حساب سب لے گا
رب جواب سب لے گا
تو دنیا میں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بے ایمانی اور نا انصافی ہمارے ساتھ ہی ایک سوالیہ نشان بن کے دفن ہو جاے گی لیکن اس کا حساب ہمارا رب ضرور لے گا اس دن جس دن صور پھونکا جاے گا اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے نکل بھاگیں گے اس دن حساب کتاب والے فرشتے اپنے حسابی رجسٹر کھول کر پورا حساب کتاب کھول کر ہر کسی کا کیا دھرا اس کے منہ پہ دے ماریں گے اور وہ دن جلد ہی آنے والا ہے.
میرا اللہ سب سے پوچھے گا
کیوں ظلم ناحق بپا رکھا
کیوں مظلوموں پہ ظلم. کیا
کیوں دیکھا تماشا بے بس کا
کیوں بھوکے کو روٹی نہ دی
کیوں چھین لیا مالک سے گھر
کیوں سڑک پہ آے اہل علم
کیوں اہل ہنر بے نام رہے
پوچھے گا اللہ یہ سب سے
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gmail.com