۔الحاج خورشید احمد رحمانی / ایک باکمال نعت خواں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر:- علی رضا (صدارتی ایوارڈ یافتہ)
۔۔۔۔۔الحاج خورشید احمد رحمانی / ایک باکمال نعت خواں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:- علی رضا
(صدارتی ایوارڈ یافتہ)
خورشید احمد کا بنیادی تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی بستی نورےوالی سے تھا جہاں وہ یکم جنوری 1956 کو پیدا ہوئے یہیں اُنہوں نے ابتدائی تعلیم ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کرنے کے بعد میٹرک کالونی ہائی سکول سے کیا بعد ازاں کامرس انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومے کے حصول اور کراچی منتقلی کے بعد کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ۔۔۔۔۔۔۔
ُ اُن کی شہرت کا آغاز 70 کی دہائی میں اُس وقت ہوا جب اُنھوں نےخالد محمود کی درج ذیل نعت پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔۔۔۔۔
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ الفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے
اس کے بعد اُن کا پڑھا ہوا ہر کلام عوام و خواص میں مقبولیت کے درجے پر فائز ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے پڑھنے کے لیے ہمیشہ معیاری اور عمدہ کلام کا انتخاب کیا اور ایسی ہزاروں نعتیں نہایت والہانہ انداز سے پڑھ کر ہر جگہ شہرت اور پزیرائی حاصل کی۔۔۔۔۔۔۔
اُنھوں نے شیخ سعدی، حضرت احمد رضا خان بریلوی، احمد ندیم قاسمی، خالد محمود نقشبندی، مظفر وارثی، حفیظ تائب، حافظ مظہر الدین ، منور بدایونی، ادیب رائے پوری،اعظم چشتی، الحاج محمد علی ظہوری اورعبدالستار نیازی سمیت متعدد شعرا ٔ کے نعتیہ کلام کو آواز کے پُرسوز اور دلفریب آہنگ میں ڈھال کر منفرد ادائیگی سے امر کر دیا ۔۔۔۔۔
اُنھوں نے نعت خوانی کے حوالے سے دنیا کے بیشتر ممالک میں پاکستان کا نام روشن کیا اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے فنِ نعت خوانی میں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی سمیت ملکی اور غیر ملکی سطح پر ملنے والے بے شمار ایوارڈز ان کے اعتراف فن کا ثبوت ہیں ۔۔۔۔
خورشید احمد رحمانی وہ نعت خواں ہیں جن کی پزیرائی ہر سطح پر نہایت خوش اُسلوبی سے ہوئی شمعِ رسالتﷺ کے پروانوں اور آقائے دو عالم کے دیوانوں کی روحانی تسکین کا اہتمام جس انداز میں خورشید احمد رحمانی کے دل گداز لحن کے سبب ہوا وہ بارگاہِ رحمت اللعالمینﷺ میں قبولیت کی دلیل ہےاور اُن کا قابل قدر حوالہ بھی۔۔۔۔۔۔
مجھے بھی چند ایک جگہوں پر خورشید احمد رحمانی کی موجودگی میں نعت شریف پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا ایک مرتبہ غالبا 80 کی دہائی کے اواخر میں الحمرا ہال نمبر (1) میں ممتاز نعت خواں الحاج محمد علی ظہوری نے مجلس حسان پاکستان لاہور کے تحت ہونے والی ایک محفلِ نعت میں مجھے بھی مدعو کیا اس محفل میں ملک بھر سے دیگر بہت سے نامور اور خوب خوبصورت پڑھنے والے نعت خواں حضرات شریک ہوئے تھے میں نے اس محفل میں خورشید احمد کا پڑھا ہوا اور جناب خالد محمود کا لکھا ہوا درج ذیل کلام پیش کیا۔۔۔۔۔۔
کرم آج بالائے بام آگیا ہے
زباں پر محمدﷺ کا نام آگیا ہے
درودوں کی بارش ہے کون و مکاں پر
کہ آج انبیاء کا اِمام آگیا ہے
جب میں یہ نعت پڑھ رہا تھا اس دوران الحاج خورشید احمد ہال سے ملحقہ کسی جگہ وضو کر رہے تھے جب محفل ختم ہوئی تو مجھے تھپکی دیتے ہوئے کہنے لگے ” واہ آپ نے یہ کلام خوب پڑھا میں اُس وقت وضو کر رہا تھا لیکن میری سماعتوں کا رخ آپ ہی کی طرف تھا” میرے لیے جنابِ خورشید احمد کے یہ کلماتِ تحسین سند کا درجہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
خورشید احمد ایک عاجز اور مٹے ہوئے انسان تھے نعت خوانی میں بین الاقوامی شہرت رکھنے اور بے شمار ایوارڈز حاصل کرنے کے باوجود اُن کے انکسار اور سادگی کی مثال کہیں کم کم ہی دکھائی دی اُن کے باطن کی خوشبوؤں نے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا وہ جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و توصیف کے لیے کھڑے ہوتے تو جیسے وقت کی نبض تھم جاتی اور اُن کی نعت خوانی کے دوران حاضرین کی آنکھوں کی نمی بڑھتی جاتی ایسا لگتا جیسے روحانیت کی پُرکیف اور دلنشیں ہوائیں چلنے لگی ہوں وہ جب گنبد خضرا کی چھاؤں میں گزرنے والی کیف آفریں ساعتوں کا تذکرہ کرتے تو پنڈال میں ہر طرف خوشبوئیں پھیل جاتیں اور محبت رسولﷺ کی کئی کہکشائیں فضا میں روشن ہو جاتیں۔۔۔۔۔
باادب نعت خوانی کے اصل رنگ کا فروغ اُن کی زندگی کا مشن تھا اسی احساس کے حصار میں وہ بڑے ہی ڈھنگ سے آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔۔۔۔۔۔
خورشید احمد 30 اگست 2007 میں وفات پا گئے ۔۔۔ دماغ کی شریان کا پھٹنا ان کی موت کا سبب بنا شدید علالت کے دوران وہ ہسپتال میں دو دن بے ہوشی کے عالم میں رہنے کے بعد وہ اپنے ابدی سفر پر روانہ ہوئے ان کی تدفین کراچی میں مزار حضرت عبداللہ شاہ غازی کے احاطے میں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔