August 29, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*چینی کی قیمتوں میں اضافہ: عوام کے لیے مہنگائی، مافیا کے لیے کمائی*

20250326_153851
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*چینی کی قیمتوں میں اضافہ: عوام کے لیے مہنگائی، مافیا کے لیے کمائی*

پاکستان میں چینی محض ایک خوردنی شے نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروبار ہے، جہاں عوام کو لوٹنے والے ہمیشہ متحد رہتے ہیں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان کے انکشافات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ایک پرانی حقیقت کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ چینی مافیا ہر دور میں حکومتوں کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف ہر حکومت میں شوگر انڈسٹری سے وابستہ افراد حکومتی فوائد حاصل کرتے رہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے رہے۔
چینی مافیا کی طاقت صرف سیاست دانوں کی سرپرستی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے بینکاری نظام، بیوروکریسی اور سٹے بازوں کا بھی گٹھ جوڑ شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت آئے، چینی کے نرخوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ اس صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والے زیادہ تر جاگیردار، کاروباری شخصیات اور سیاست دان ہیں، جو قوانین اپنے مفادات کے مطابق بناتے اور بدلتے رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت (2008-2013) میں چینی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ہوا۔ حکومت نے سبسڈی کے نام پر شوگر مافیا کو اربوں روپے دیے، مگر اس کا فائدہ عام عوام کو نہیں پہنچا۔ 2009 میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا، جب سٹے بازوں نے نرخ مصنوعی طور پر بڑھا دیے۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ چینی درحقیقت برآمد نہیں ہوئی بلکہ صرف کاغذوں میں ایکسپورٹ دکھا کر حکومتی خزانے سے سبسڈی وصول کر لی گئی، پھر یہی چینی زیادہ قیمت پر دوبارہ عوام کو فروخت کی گئی۔
مسلم لیگ نون کے دورِ حکومت (2013-2018) میں بھی چینی بحران بار بار پیدا ہوا، مگر کسی نے بھی اس کے اصل عوامل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ کئی شوگر ملز نے بینکوں سے بڑے قرضے لیے، بعد میں ڈیفالٹ کر گئیں، اور پھر سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے ان قرضوں کی معافی حاصل کر لی۔ نواز شریف اور شہباز شریف خاندان کی بھی شوگر ملز میں سرمایہ کاری رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوگر مافیا کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی۔
تحریک انصاف حکومت (2018-2022) میں عوام کو امید تھی کہ چینی مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی، مگر 2020 میں چینی بحران کے دوران عام شہریوں کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ شوگر انکوائری رپورٹ میں ثابت ہوا کہ جہانگیر ترین گروپ، خسرو بختیار اور دیگر حکومتی شخصیات کی ملز نے مصنوعی قلت پیدا کر کے اربوں روپے کمائے۔ مگر بالآخر ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی اور چینی کی قیمتیں بدستور بڑھتی رہیں۔
چینی مافیا کی کمائی کے طریقے کئی ہیں۔ ایک عام طریقہ یہ ہے کہ ملز مالکان گوداموں میں چینی ذخیرہ کر لیتے ہیں اور قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ دوسرا طریقہ سبسڈی کے ذریعے منافع کمانا ہے، جہاں حکومت برآمدات پر سبسڈی دیتی ہے، مگر حقیقت میں چینی صرف کاغذات پر برآمد ہوتی ہے اور پھر مہنگے داموں دوبارہ مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے۔ تیسرا طریقہ بینکوں سے بڑے قرضے لے کر ڈیفالٹ کرنا اور سیاسی تعلقات کے ذریعے ان قرضوں کو معاف کروا لینا ہے۔ چوتھا طریقہ مصنوعی طور پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کر کے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمانا ہے۔
چینی مافیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر حکومت اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ عوام کی جیبیں خالی ہوتی رہتی ہیں جبکہ شوگر انڈسٹری کے مالکان اپنی دولت میں مزید اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ اگرچہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر جیسے سیاست دان ان حقائق کو منظرعام پر لاتے ہیں، مگر عملی طور پر کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتا۔ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔
اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ چینی کی پیداوار، سبسڈی اور برآمدات کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاست دانوں اور بیوروکریسی میں موجود شوگر مافیا کے حمایتی عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے جو بینکوں سے قرضے لے کر ڈیفالٹ کرتے ہیں اور عوامی وسائل پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت اور بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر کے مطابق، ملک میں 18 کروڑ ملین روپے کی مالی بے ضابطگیاں موجود ہیں، اگر اس کا صرف 10 فیصد بھی ریکور کر لیا جائے تو ملکی بجٹ سے زیادہ رقم بچائی جا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومتیں واقعی چینی مافیا کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانے کی ہمت رکھتی ہیں یا عوام اسی طرح لُٹتے رہیں گے؟
پاکستان میں چینی مافیا ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو ہر حکومت میں موجود رہتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے عوام کو لوٹنے میں مصروف رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف— تینوں ادوار میں یہی کھیل جاری رہا، اور جب بھی چینی مہنگی ہوئی، عوامی چیخ و پکار کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب عوام اس استحصال کے خلاف شعور پیدا کریں گے اور اس مافیا کے خلاف اجتماعی آواز بلند کریں گے۔ ورنہ ہر آنے والی حکومت میں چینی مافیا مزید مضبوط ہوگا اور عوام کی جیبیں خالی ہوتی رہیں گی۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0