October 23, 2026

سکھر سندھ۔۔ بیورو چیف ۔۔سید نصیر حسین زیدی۔۔۔۔۔ دعا آن لاین نیوز بات تمہاری نہیں ھے بات زمانے کی ھے ہائی کورٹ کا جج کیسے بنتا ہے؟

20241229_020952

سکھر سندھ۔۔
بیورو چیف ۔۔سید نصیر حسین زیدی۔۔۔۔۔
دعا آن لاین نیوز
بات تمہاری نہیں ھے
بات زمانے کی ھے
ہائی کورٹ کا جج کیسے بنتا ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے ہائی کورٹ کا جج کیسے بنتا ہے؟ کوئی امتحان ، کوئی ٹیسٹ ، کوئی انٹرویو ؟

معمولی سی معمولی نوکری کے لیے بھی سرکار نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی مسافت جتنا طویل اشتہار جاری کرتی ہے کہ امیدوار میں فلاں فلاں محیر العقول خوبیوں کا ہونا ضروری ہے، پھر سکروٹنی ہوتی ہے ،امتحان لیے جاتے ہیں ، پھر انٹرویو ہوتے ہیں ، تب جا کر کوئی خوش قسمت چنا جاتا ہے ۔

لیکن ہائی کورٹ کے جج کے لیے نہ کوئی ” اسامی خالی ہے” کا اشتہار ہوتا ہے ، نہ کوئی امتحان ہوتا ہے ، نہ کوئی انٹر ویو ہوتا ہے ، بس “سٹیک ہولڈرز”مل بیٹھتے ہیں اور مل جل کر جج بنا لیا جاتا ہے۔

چنانچہ لوگ حیرت سوچتے ہیں کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ سسر صاحب بھی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب سے ریٹائر ہوتے ہیں اور پھر داماد بھی چیف جسٹس آف پاکستان بن جاتے ہیں ۔ والد گرامی بھی جج ہوتے ہیں اور صاحبزادے بھی جج بن جاتے ہیں۔ ایک ایک لا فرم سے دو دو اور تین تین پارٹنر بیک وقت جج بن جاتے ہیں۔
یعنی یہ معاملہ محض قانون فہمی کا ہے یا کہانی کچھ اور بھی ہے۔۔

ایک زمانہ تھا چیف جسٹس ہی فیصلہ کر لیتا تھا کس کس کو جج بنانا ہے۔ پھر اہل سیاست نے کہا : اس عمل میں ہمارا حصہ بھی تو ہو ۔ چنانچہ جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیشن بن گئے۔
26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب ایک عدد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ہے جس میں سٹیک ہولڈرز مل جل کر جج بنا لیتے ہیں۔

کیسے بنا لیتے ہیں ، یہ جاننے کے لے آئیے ذرا سندھ جوڈیشری کو دیکھتے ہیں جہاں ہائی کورٹ میں جج تعینات کرنے کے لیے سب اپنے اپنے نام پیش کر چکے ہیں اور ان میں سے ایک سہانی صبح جج چن لیے جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے فاروق نائک صاحب اور وزیر قانون سندھ ضیا الحسن لنجار صاحب نے اس جوڈیشل کمیشن کے رکن کے طور پر جن لوگوں کی سففارش کی ہے ، پہلے ذرا اس فہرست پر نظر ڈالیے۔

ایک نام شازیہ ہنجرا صاحبہ کا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ شازیہ ہنجرا صاحبہ فاروق نائک ہی کی لا فرم میں ایسوسی ایٹ ہیں۔ لیکن ان کا تعارف صرف یہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عدنان الکریم کی اہلیہ بھی ہیں۔

فاروق نائک اور وزیر قانون سندھ کی جانب سے دیا گیا ایک نام قاضی محمد بشیر صاحب کا ہے۔ یہ پیپلز لائرز فورم سندھ کے صدر ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ کے سربراہ جناب محمد کریم آغا صاحب کے تجویز کردہ ناموں میں سے ایک نام میران شاہ کا ہے ۔ وہ کون ہیں؟ وہ پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کے بھائی جان ہیں۔

وفاقی وزیر قانون جناب اعظم نذیر تارڑ نے یاسر احمد شاہ کا نام تجویز کیا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے وہ کون ہیں؟ وہ مسلم لیگ ن کے رہنما محمد شاہ کے صاحب زادے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس منصور شاہ صاحب نے چودھری عاطف رفیق کو نامزد کیا ہے جو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر اے ملک کی لا فرم کے پارٹنر ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو نام دیے ہیں ان میں سے ایک نام عبید الرحمن خان صاحب کا ہے۔ وہ جسٹس عطا الرحمن کے صاحب زادے ہیں۔ ان کی جانب سے دیا گیا ایک اور نام عمیمہ انور صاحبہ کا بھی ہے جو سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی صاحب زادی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تجویز کردہ اگلا نام ذیشان عبد اللہ صاحب کا ہے جو پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی لا فرم کے پارٹنر ہیں۔

ان کی نامزد کردہ چوتھی شخصیت کا نام جعفر رضا ہے جو پیپلز پارٹی کے مرتضی وہاب کی لا فرم کے پارٹنر ہیں۔

ہمارے ہاں جو طوفان کھڑے ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں جج کو بنچ میں شامل کیوں کیا گیا اور فلں فلاں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا ، یہ سب فضول کی مشقت ہے۔

بنچ کیسے بنے گا اور بنچ بنانے کا اختیار کس کے پاس ہو گا یا یوں کہہ لیجیے کہ کس کس کے پاس ہو گا ، یہ بھی ثانوی مشقت ہے۔

اصل اور اہم سوال یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں جج کی تعیناتی کا طریقہ کتنا شفاف ہے؟ یہاں ججوں کے رشتہ دار ، لا فرمز کے پارٹنر، کچھ چیمبرز کے ایسووسسی ایٹس اور سیاسی پس منظر رکھنے والوں ہی کو کیوں خاص اہمیت دی جاتی ہے؟ کیا قانون کا سارا فہم رب تعالی نے ان چند مخصوص گھرانوں پر نازل فرما دیا ہے ؟
تو کوئی ہے جو اس بنیادی سوال کا جواب دے سکے؟
جیہڑا کٹو لال اے لال اے۔۔۔
۔
خلیق الرحمن خالد کمبوہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ