November 5, 2026

جیکب آباد کو اس کا جائز حق دو! عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان جیکب آباد (پریس کانفرنس)

Screenshot_2026-11-02_183146.270

جیکب آباد کو اس کا جائز حق دو!

عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان

جیکب آباد (پریس کانفرنس)

محترم صحافی حضرات!

جیکب آباد سندھ کا ایک تاریخی اور اہم ضلع ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، لیکن افسوس کہ یہاں کے عوام آج بھی صحت، تعلیم، امن و امان، ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جیکب آباد کے مسائل کسی ایک جماعت یا تنظیم کے نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام کے مشترکہ مسائل ہیں۔ ان کے حل کے لیے تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، قوم پرست جماعتوں اور سول سوسائٹی کو متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔

آج ہم جیکب آباد کے چند اہم مسائل اور اپنے مطالبات میڈیا کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

1۔ سول ہسپتال کی حالتِ زار

سول ہسپتال جیکب آباد کے لیے کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ اور ادویات کے لیے خطیر فنڈز مختص ہونے کے باوجود مریضوں کو بنیادی ادویات اور طبی سہولیات میسر نہیں۔ عوام معمولی دوائیں بھی باہر سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

مطالبات:

– ہسپتال میں ادویات اور طبی سہولیات کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
– ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے۔
– ہسپتال کے بجٹ اور ادویات کی خریداری کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔

2۔ سرکاری یونیورسٹی کا قیام

تقریباً 15 لاکھ آبادی کے ضلع جیکب آباد میں تاحال مکمل سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً طالبات سفری، معاشی اور سماجی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

مطالبات:

– جیکب آباد میں فوری طور پر سرکاری یونیورسٹی قائم کی جائے۔
– یونیورسٹی کے لیے زمین، بجٹ اور عملی منصوبہ مختص کیا جائے۔
– جیکب آباد میں بند پڑے پرائمری اسکولز کھولے جائیں۔

3۔ پبلک پارکس کی بحالی

شہید اللہ بخش سومرو پارک، شہید میر مرتضیٰ بھٹو پارک اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پارک انتظامی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ بچوں کے جھولے، صفائی، روشنی، دیواریں اور بیٹھنے کی سہولیات خراب حالت میں ہیں۔

مطالبات:

– تینوں پارکس کی فوری مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔
– بیٹھنے کے لئے چیئرز بچوں کے لیے جھولے اور دیگر تفریحی سہولیات فراہم کی جائیں۔
– اوباش لوگوں کو روک کر خواتین اور خاندانوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جائے۔

4۔ امن و امان اور سیف سٹی منصوبہ

جیکب آباد میں چوری، ڈکیتی، موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں سے شہری اور تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

مطالبات:

– جیکب آباد میں سیف سٹی منصوبہ شروع کیا جائے۔
– اہم چوراہوں، بازاروں اور داخلی و خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔
– پولیس گشت بڑھایا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

5۔ پیپلز بس سروس اور ریلوے کی بحالی

سکھر، شکارپور اور خیرپور سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں پیپلز بس سروس شروع کی گئی ہے، لیکن جیکب آباد کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ریلوے کی سہولیات بھی مسلسل کم ہو رہی ہیں اور سکھر ایکسپریس میں دو بوگیاں ختم کیے جانے سے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

مطالبات:

– جیکب آباد میں پیپلز بس سروس شروع کی جائے۔
– ریلوے کی ختم کی گئی دو بوگیاں بحال کی جائیں۔
– ٹرینوں کی باقاعدہ آمدورفت اور تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
– ریلوے اسٹیشن اور مسافروں کی بنیادی سہولیات بہتر بنائی جائیں۔

6۔ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت

جیکب آباد میں ترقیاتی منصوبوں کی ناقص تعمیرات، فنڈز کے ضیاع اور کرپشن سے متعلق شکایات موجود ہیں۔ شہر کی متعدد سڑکیں اور گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

مطالبات:

– گزشتہ پانچ سال کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔
– ناقص تعمیرات اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں۔
– ذمہ داروں کا قانون کے مطابق احتساب کیا جائے۔
– ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی میں سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں کو شامل کیا جائے۔

7۔ صاف پانی، سیوریج اور شہری سہولیات

شہر کے مختلف علاقوں میں صاف پینے کے پانی، نکاسی آب، صفائی اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کے مسائل موجود ہیں۔

مطالبات:

– تمام علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
– واٹر سپلائی اور فلٹریشن پلانٹس فعال کیے جائیں۔
– سیوریج اور نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے۔
– شہر کے تمام محلوں میں صفائی اور سڑکوں کی مرمت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان

جیکب آباد کے ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے ہم تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، قوم پرست جماعتوں، وکلا، صحافیوں، تاجروں اور سول سوسائٹی کو مشترکہ جدوجہد کی دعوت دیتے ہیں۔

اسی سلسلے میں:

20 نومبر 2026ء کو جیکب آباد میں ایک عظیم الشان آل پارٹیز کانفرنس (APC) منعقد کی جائے گی۔

کانفرنس میں شہر کے بنیادی مسائل پر مشترکہ مشاورت، متفقہ قراردادوں کی منظوری اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایک مشترکہ رابطہ و ایکشن کمیٹی کی تشکیل بھی زیر غور لائی جائے گی، جو حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبات کی منظوری اور عمل درآمد کے لیے رابطہ کرے گی۔

حکومت سے مطالبہ

ہم وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، متعلقہ صوبائی وزراء، جیکب آباد سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سینیٹ، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیکب آباد کے عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے خصوصی پیکیج دیا جائے۔

جیکب آباد کے عوام لاوارث نہیں!

ہم اپنے شہر کے بچوں کے بہتر مستقبل، نوجوانوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج، شہریوں کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جیکب آباد کو اس کا جائز حق دو!

جیکب آباد کی ترقی، جیکب آباد کے عوام کا حق ہے!

علامہ مقصود علی ڈومکی
صوبائی صدر، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، صوبہ سندھ
نائب صدر، جیکب آباد شہری اتحاد

و دیگر رہنما آل پارٹیز کانفرنس

تاریخ 4 نومبر 2026