سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ان لاہین نیوز سکھر: ایف بی آر کی جانب سے ڈاکٹروں پر پوائنٹ آف سیل (POS) ٹیکس عائد کرنے کے خلاف پاکستان
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ان لاہین نیوز
سکھر: ایف بی آر کی جانب سے ڈاکٹروں پر پوائنٹ آف سیل (POS) ٹیکس عائد کرنے کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سکھر کی جانب سے دوسرے روز بھی احتجاج، او پی ڈیز کا مکمل بائیکاٹ اور ریلی نکالی گئی۔*
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع سکھر کی اپیل پر آج 2 نومبر کو سول اسپتال سکھر سمیت شہر کے نجی اسپتالوں اور کلینکس کی او پی ڈیز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا، جبکہ نجی اسپتالوں اور کلینکس کی تالہ بندی کرکے شٹر ڈاؤن احتجاج بھی کیا گیا۔
احتجاج کے باعث سکھر شہر کے عیدگاہ روڈ، میانی روڈ، تیر چوک، اسٹیڈیم روڈ، سول اسپتال روڈ، ورکشاپ روڈ سمیت دیگر علاقوں میں قائم نجی اسپتالوں اور کلینکس میں طبی معائنے کے لیے آنے والے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایف بی آر کی جانب سے ڈاکٹروں پر عائد کیے جانے والے پوائنٹ آف سیل (POS) ٹیکس کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع سکھر کے صدر، سینئر پروفیسر سرجن ڈاکٹر ذوالفقار علی سومرو، ڈاکٹر بشیر احمد چانڈیو، کیپٹن ڈاکٹر نصراللہ سومرو اور ڈاکٹر فیض بھگيو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں پر عائد کیے جانے والے ٹیکس کے فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کو مریض سے ملنے والی فیس کی پوری رقم اس کی ذاتی آمدنی نہیں ہوتی، بلکہ اس رقم سے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اور نجی اسپتالوں و کلینکس کی دیکھ بھال سمیت دیگر ضروری اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ مختلف اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، اس لیے ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ نجی کلینکس اور اسپتالوں کی مجموعی سالانہ آمدنی کے بجائے تمام اخراجات نکالنے کے بعد ڈاکٹر کی بچنے والی خالص آمدنی پر ٹیکس وصول کرے، جس پر ڈاکٹر برادری کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بصورت دیگر ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسوں کے باعث ڈاکٹر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
احتجاج میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع سکھر کے عہدیداران ڈاکٹر ذوالفقار علی سومرو، عبدالواحد عباسی، ڈاکٹر سریش کمار سمیت دیگر ڈاکٹروں نے بھی شرکت کی