نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم۔ جمعرات 03 ستمبر 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم۔
جمعرات 03 ستمبر 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
سورۃ الأحزاب 33:56 میں
فرمان ربانی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
ترجمہ:
“بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔”
سورۃ الأحزاب کی آیت نمبر 56 قرآنِ پاک کی ان بابرکت آیات میں سے ہے جو مقامِ رسالت، عظمتِ مصطفیٰ اور امتِ مسلمہ پر آپ کے حقوق کو انتہائی بلیغ انداز میں بیان کرتی ہیں۔
اس آیت مبارکہ کی جامع تفسیر درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہے:
1.شانِ نزول اور مفہومِ صلوٰة (درود کا مفہوم)
* اللہ تعالیٰ کا درود: جب یہ نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی رحمت کا نزول، ثناء (تعریف)، اور بندے کا مقرب بنانا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعریف فرشتوں کے سامنے بلند فرماتا ہے، آپ پر اپنی خاص رحمتیں نازل کرتا ہے اور عالمِ بالا میں آپ کا تذکرہِ خیر عام فرماتا ہے۔
* فرشتوں کا درود: فرشتوں کے درود سے مراد استغفار، دعائے رحمت اور آپ ﷺ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرنا ہے۔
* مومنوں کا درود: مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نبی پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں، آپ کی محبت، اطاعت اور تعظیم کا اظہار کریں۔
2.صلوٰة و سلام کا صیغہ اور تسلیم کا حکم
آیت کے آخر میں ارشاد ہوا: ﴿صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو)۔
* دوہری نسبت: اس میں درود (صلوٰة) کے ساتھ سلام کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امت کو زبان، دل اور عمل ہر طریقے سے آپ ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت کا نذرانہ پیش کرنا چاہیے۔
* تسلیم کا مفہوم: “تسلیمًا” مفعول مطلق ہے جو تاکید کے لیے آیا ہے، یعنی ایسا پورا اور مکمل تسلیم کرنا جس میں کوئی ادنیٰ سا بھی شائبہء انکار یا پس و پیش نہ ہو—آپ ﷺ کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کر دینا۔
3.اس آیت کا امت پر عملی تقاضا
یہ آیت امتِ مسلمہ کو سکھاتی ہے کہ صاحبِ قرآن (ص ﷺ) کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہونا چاہیے۔
* تعظیم و تکریم: زبان پر ہمیشہ درود و سلام کا جاری رہنا۔
* اطاعتِ تام: آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور سنت پر صدقِ دل سے عمل کرنا۔
* احسان شناسی: اس بات کا اعتراف کرنا کہ کائنات کو جو ہدایت اور روشنی ملی ہے، اس کا سب سے بڑا ذریعہ اور واسطہ ذاتِ رسالت مآب ﷺ ہی ہے۔
4.درود شریف کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
اس آیت کی عملی تفسیر ہمیں احادیثِ مبارکہ میں ملتی ہے:
* حضرت ابوبکر صدیق یا دیگر صحابہ کے سوال پر کہ “یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں، لیکن درود کیسے بھیجیں؟” تو آپ ﷺ نے درودِ ابراہیمی سکھایا۔
* ایک حدیث میں ہے کہ جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
* جمعہ کے دن اور رات میں کثرت سے درود شریف پڑھنے کی خاص تاکید آئی ہے کیونکہ یہ اعمالِ صالحہ میں سے ایک انتہائی افضل عمل ہے۔
یہ آیت اس بات کا مستقل اعلان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کے محاورے اور شخصیات بدلتی رہتی ہیں، مگر ذکرِ مصطفیٰ کو دوام اور بلندی عطا کرنا خود ربِ کائنات نے اپنے ذمے لے رکھی ہے اور اس لافانی ذکر میں مومنوں کو شریک ہو کر اپنی عاقبت سنوارنے کا شرف بخشا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا مسنون طریقہ درودِ ابراہیمی ہے:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ایک اہم قابل فہم نکتہ:
ہم نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں تو ہم کہتے ہیں
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ
اے اللہ تو بھیج محمد پر درود
یعنی ہم اپنا درود اللہ تعالی کے حوالے کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو بھیج محمد پر درود۔
اب ہمارا درود اللہ تعالی کے حوالے وہ جیسے چاہیں محمد پر درود بھیجیں ڈائرکٹ سنوا دیں۔ فرشتوں کے ذریعے پہنچائیں یا کسی اور ذریعے سے پہنچائیں ہم اپنا درود اللہ تعالی کے سپرد کردیتے ہیں۔
جیسے آیت کے کلام کا انداز ہے ہم اسی انداز میں ہم اللہ تعالی سے گزارش کرتے ہیں کہ اے اللہ تو بھیج تاکہ محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یقینی ہمارا درود پہنچے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333