مولانا فضل الرحمان صاحب اور تمام دوسرے جو انہی جیسی سوچ رکھتے ہیں:
مولانا فضل الرحمان صاحب اور تمام دوسرے جو انہی جیسی سوچ رکھتے ہیں:
“فوج نوکری نہیں حضور والی ، موت سے معایدہ ہوتا ہے”
بس یہی بات تو ہمارے “ڈی جی بابو” پبلک کو سمجھا نہیں سکے کہ فوج نوکری نہیں بلکہ عمر بھر کی ریاضت کا نام ہے کیونکہ نوکری تو وہ ہے کہ جہاں …
گھر سے ایک کلومیٹر دور بھی پوسٹنگ ہو جائے تو سفارشیں ڈھونڈی جاتی ہیں تبادلے رکوائے جاتے ہیں نوکری تو وہ ہے کہ آدھا گھنٹہ بھی دفتر میں زیادہ لگ جائے تو اوور ٹائم مانگے جاتے ہیں ارے نوکری تو وہ ہے کہ گھر زرا سا تاخیر سے پہنچے تو مائیں دروازوں پر راہ تکنے آن کھڑی ہوتی ہیں نوکری تو وہ ہے کہ ٹی اے ملتے ہیں ، ڈیلی الاونس ملتے ہیں انشورنس ملتی ہے ، اے سے ملتے ہیں ، گاڑیاں ملتی ہیں ، بنگلے ملتے ہیں اور سب سے بڑھ کر رشتے اور گھرانے دستیاب رہتے ہیں …
جبکہ فوج نوکری نہیں عمروں کا سودا ہے جہاں گھر چھوٹ جاتے ہیں رشتے روٹھ جاتے ہیں خدا کی قسم جس دن بچے فوج میں جاتے ہیں اس کے بعد وہ اپنے گھروں میں بھی مہمان بن کر آتے ہیں اور بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مائیں راہ تکتی رہ جاتی ہیں اور کڑیل گھبرو جوان بیٹے …
“گھر لوٹ کر نہیں بھی آتے” 😭😭
بس ڈی جی بابو بتا نہیں سکے کہ فوج میں دشت ملتے ہیں زخم ملتے ہیں مسافتیں ملتی ہیں رت جگے ملتے ہیں۔ سر بریدہ، بےکفن لاشیں ملتی ہیں کہ کون پاگل چند ٹکوں کے بدلے اپنا خون بہا معاف کرتا ہے کون حلف نامے میں عمر بھر کی وفاؤں کا عہد کرتا ہے کون اپنے بچوں کو برستی آگ اور بارود میں بھیج کر رات مصلوں پر گزار دیتا ہے …
یہ محترم ڈاکٹر، انجینیئر ،کلرک ،استاد، مکینک ،مستری ،چپڑاسی ،پٹواری ، بیوروکریٹ سب پیسوں کے عوض ہی نوکریاں کرتے ہیں۔ ہمارے مولوی حضرات ،علماء کرام اور شیوخ بھی اپنی اپنی خدمات کا پورا پورا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ حتکہ آنے جانے کے لیے کار تک کا کرایہ بھی لیتے ہیں۔
جبکہ فوج نوکری نہیں بلکہ خون کے عوض اس مٹی سے نکاح کا نامہ ہے ایسا نکاح نامہ جس میں طلاق بھی ممکن نہیں رہتی کہ ایک دن کا فوجی بھی تمام عمر فوجی ہی رہتا ہے …
فوج عبادت اور جنون ہے۔ فوجیوں کی ماؤں کے خمیر جنت کی مٹی اور آب کوثر سے گندھے ہوتے ہیں یہ وقت سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ ہر آہٹ پر انہیں بیٹوں کا گمان رہتا ہے۔ ہر ایمبولینس کی آواز میں انہیں اپنے بچوں کی چیخ سنائی دیتی ہے اور ہر بری خبر میں یہ بیٹوں کی خیر مانگتے رات سجدوں میں گزار دیتی ہیں …قسم سے۔
خدا کی قسم محض چند لوگوں کے سوالیہ کردار اس پیشہ پیغمبری کو داغ دار نہیں کر سکتے کہ فوج واقعی پیشہ نہیں ایک پیشن ہے اور جہاں “اک اسیر سے محبت میری آخری محبت ہے وہیں اس فوج سے محبت بھی” میری سانس سانس چلتی ہے کیونکہ …
“یہ ملک بھی الحمدللہ میرا ہے اور یہ فوج بھی میری اپنی ہے۔ ہم سب پاکستان ہیں۔پاکستان زندہ باد، پائندہ باد”