جیکب آباد: (نامه نگار)شیخ مولانا ادریس کے قتل کے خلاف جے یو آئی جیکب آباد کا بڑا احتجاجی مظاہرہ۔۔۔
جمھوری نظام کے ذریعے سیاسی جدوجہد کرنے والے علماء کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے ہمیں بیلٹ کے بجائے بلٹ اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ جے یو آئی سندھ کے رہنما ڈاکٹر اے جی انصاری
جیکب آباد۔ جمعیت علماء اسلام کی جانب سے شیخ مولانا محمد ادریس کے بے گناہ قتل اور ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا عبدالجبار رند، مولانا نصراللہ گہنیو، قاری عزیز الله مہر،محب الله بنگلانی،محمود مہر، مولانا مولا بخش بکھرانی،چاکر خان جکھرانی،واحد بخش انڑ، تاج امروٹی اور دیگر کی قیادت میں شہید اللہ بخش پارک سے نکالا گیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے۔ مظاہرین نے شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کرتے ہوئے پریس کلب جیکب آباد کے سامنے دھرنا دیا جس کے باعث کچھ دیر کے لیے روڈ بلاک اور ٹریفک معطل ہوگئی۔ اس موقع پر جے پو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری مقر نے خطاب میں کہا کہ شیخ مولانا محمد ادریس کا علم، دین اور امن پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ڈاکو راج، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ علماءِ کرام، دینی شخصیات اور پرامن شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہموری نظام کے زریعے جدوجہد کرنے والے سیاسی علماء کا قتل جمہوریت کا قتلِ ہے۔ جے یو آئی کو بیلٹ کے بجائے بلٹ اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے اور کہا کہ اگر قاتلوں کی گرفتاری اور بدامنی کے خاتمے کے لیے فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔