16

سکھر(بیورورپورٹ)لاڑکانہ کے علاقے باقرانی کی رہائشی خاتون فریدہ منگریو نے خیرپور کے علاقے

سکھر(بیورورپورٹ)لاڑکانہ کے علاقے باقرانی کی رہائشی خاتون فریدہ منگریو نے خیرپور کے علاقے گاڑھی موری کے رہائشی نوجوان آصف علی انصاری کے ساتھ پسند کی شادی کر لی۔ خیرپور کی عدالت میں نکاح کے بعد دونوں میاں بیوی تحفظ کے حصول کے لیے سکھر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے صحافیوں کے سامنے پیش ہو کر اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ ضلع کے تعلقہ باقرانی کے گاؤں خیر محمد آریجا کی رہائشی فریدہ دختر امان اللہ منگریو نے خیرپور کے علاقے گاڑھی موری کے رہائشی آصف علی ولد محمد انصاری کے ساتھ اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی۔ دونوں نے خیرپور کی عدالت میں شریعت محمدی کے مطابق باقاعدہ نکاح کیا، تاہم شادی کے بعد لڑکی کے اہل خانہ ان کے مخالف ہو گئے اور مبینہ طور پر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔سکھر پہنچ کر فریدہ منگریو اور آصف علی انصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضا مندی سے نکاح کیا ہے، لیکن نکاح کے بعد لڑکی کے رشتہ دار، جن میں الہورايو منگریو، وحید علی منگریو اور پپن منگریو شامل ہیں، ان کی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد نہ صرف انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں بلکہ جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔نوبیاہتا جوڑے نے کہا کہ انہیں اپنی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عدالت میں نکاح کیا ہے، اس کے باوجود انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔جوڑے نے وزیر اعلیٰ سندھ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے خلاف دی جانے والی قتل کی دھمکیوں اور جھوٹے مقدمات کے خدشات کا فوری نوٹس لیا جائے اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے انصاف مہیا کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی خوف کے بغیر گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں