7

*حضرت امام زین العابدین علیہ سلام کا خطبہ مسجد اموی دمشق*

*حضرت امام زین العابدین علیہ سلام کا خطبہ مسجد اموی دمشق*

اتوار 05 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

دمشق کی جامع مسجد (مسجد اموی) میں امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ خطبہ تاریخ کا وہ رخ ہے جس نے یزید کے پورے پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

دمشق کی جامع مسجد میں امام زین العابدین کا تاریخی خطبہ اور اس کا پس منظر
کربلا کے خونی معرکے کے بعد جب اہل بیتِ اطہار کا لٹا ہوا قافلہ دمشق پہنچا، تو یزید نے اپنے اقتدار کی نمائش اور فتح کا جشن منانے کے لیے ایک بڑا دربار قائم کیا، اور بعد میں دمشق کی جامع مسجد میں ایک بڑا اجتماعِ عام منعقد کیا گیا۔ یزید کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ اس نے (معاذ اللہ) ایک باغی گروہ پر فتح حاصل کی ہے۔
اس دوران جب امام علی بن حسین زین العابدین کو یزید کے سامنے پیش کیا گیا، تو امام نے اپنی دور اندیشی اور امامت کے جلال کے ساتھ یزید سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے یزید، مجھے معلوم ہے کہ تو شاید مجھے قتل کر دے گا، لیکن میری دو خواہشات ہیں۔ پہلی یہ کہ میرے گھر کی خواتین کی حفاظت کے لیے کسی نیک بخت اور امانت دار شخص کو ساتھ بھیجنا تاکہ وہ باحفاظت مدینہ پہنچ جائیں، اور دوسری یہ کہ مجھے جامع مسجد میں جمعہ کے دن منبر پر جانے دیا جائے تاکہ میں لوگوں سے کچھ باتیں کر سکوں۔
یزید نے امام کا مرتبہ اور ان کی خاندانی فصاحت و بلاغت کو جانتے ہوئے کہا کہ جہاں تک قتل کرنے کا تعلق ہے، تو میں تمہیں قتل نہیں کروں گا اور تم خود ان خواتین کے ساتھ مدینہ جاؤ گے۔ لیکن جہاں تک مسجد میں خطبہ دینے کا تعلق ہے، تو میں اس کا وعدہ نہیں کرتا۔
جب جمعہ کا دن آیا، تو یزید نے اپنے درباری خطیب کو حکم دیا کہ وہ منبر پر جائے اور امیر المومنین علی بن ابی طالب اور امام حسین کی شان میں گستاخی کرے اور بنو امیہ کی تعریف کرے۔ درباری خطیب نے ایسا ہی کیا۔ اس موقع پر امام زین العابدین نے جلالِ امامت کے ساتھ اس خطیب کو ٹوکا اور فرمایا کہ وائے ہو تجھ پر، تو نے مخلوق کی رضا کے لیے خالق کی ناراضگی مول لے لی۔
اس کے بعد امام زین العابدین نے یزید کی طرف رخ کیا اور فرمایا کہ مجھے اس لکڑی کے ٹکڑے (منبر) پر جانے دو تاکہ میں ایسی باتیں کروں جس میں اللہ کی رضا ہو اور یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے اجر و ثواب ہو۔ یزید نے صاف انکار کر دیا۔ درباریوں اور عام لوگوں نے، جو امام کو صرف ایک بیمار اور کمزور قیدی بچہ سمجھ رہے تھے، یزید سے اصرار کیا کہ اس قیدی بچے کی خواہش پوری ہونے دی جائے، یہ کیا کہہ لے گا؟
یزید نے دمشق کے لوگوں کی نادانی پر افسوس کرتے ہوئے تاریخی جملہ کہا کہ تم لوگ نہیں جانتے، یہ اس گھرانے سے ہیں جنہوں نے علم کو گھٹی میں پیا ہے۔ اگر یہ منبر پر چلا گیا تو جب تک مجھے اور آلِ امیہ کو رسوا نہیں کر لے گا، نیچے نہیں اترے گا۔ یہ اتنے اہل زبان ہیں کہ چند لفظوں میں میرا تخت الٹ دیں گے۔ لیکن لوگوں کے بے حد اصرار پر یزید کو مجبوراً اجازت دینی پڑی۔
امام زین العابدین منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد ایک ایسا خطبہ شروع کیا جس کی فصاحت و بلاغت نے دمشق کے در و دیوار کو ہلا دیا۔ آپ نے فرمایا:
اے لوگو، خدا نے ہمیں چھ خصوصیات اور سات فضیلتوں سے نوازا ہے۔ ہمیں علم، حلم، بخشش، فصاحت، شجاعت اور مومنین کے دلوں میں محبت عطا کی گئی ہے۔ جو مجھے نہیں جانتا، میں اسے اپنے خاندان کا تعارف کراتا ہوں۔ میں مکہ و منا کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے شبِ معراج سدرۃ المنہیٰ تک سفر کیا، میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ ہوں، میں علی مرتضیٰ کا پوتا ہوں، میں فاطمہ زہرا کا لختِ جگر ہوں، میں اس حسین کا بیٹا ہوں جسے کربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا اور پیاسا ذبح کر دیا گیا اور اس کا سر نیزے پر بلند کیا گیا۔
امام نے جب اپنے خاندان کے فضائل اور کربلا کے مظالم کا ذکر کیا تو مسجد میں موجود لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ لوگ جو اب تک انہیں باغی سمجھ رہے تھے، زار و قطار رونے لگے۔ مسجد میں ایک کہرام مچ گیا، لوگ رونے لگے اور کچھ غیرت مند مسلمانوں نے یزیدی ظلم کے خلاف تلواریں سونت لیں۔ مسجد کا ماحول یکسر بدل گیا اور یزید کو اپنے تخت و تاج کا جنازہ نکلتا ہوا دکھائی دینے لگا۔
جب یزید نے دیکھا کہ اب فتنہ کھڑا ہونے والا ہے اور اس کا اقتدار خطرے میں ہے، تو اس نے امام کے خطبے کو روکنے کے لیے مؤذن کو حکم دیا کہ فوراً اذان دی جائے تاکہ نماز شروع ہو اور خطبہ بند ہو جائے۔ مؤذن نے جب کہا کہ اللہ اکبر، تو امام نے فرمایا کہ تو نے بہت بڑی ذات کی بڑائی بیان کی جو چھپائی نہیں جا سکتی۔ جب مؤذن نے کہا کہ اشھد ان لا الہ الا اللہ، تو امام نے گواہی دی۔ لیکن جیسے ہی مؤذن نے کہا کہ اشھد ان محمد الرسول اللہ، تو امام زین العابدین نے منبر سے یزید کی طرف منہ کیا اور اپنا عمامہ اتار کر فرمایا:
اے یزید، مجھے بتا کہ یہ محمد جن کا نام اذان میں لیا جا رہا ہے، یہ تیرے نانا ہیں یا میرے نانا ہیں؟ اگر تو کہتا ہے کہ تیرے نانا ہیں تو تو جھوٹا ہے اور پورا مجمع جانتا ہے کہ تو کافر ہے، اور اگر یہ میرے نانا ہیں، تو تو نے ان کی آل کو کیوں قتل کیا؟ تو نے ان کے بچوں کو قیدی کیوں بنایا اور ان کی بیٹیوں کے سر سے چادریں کیوں چھینیں؟ تم اسی نبی کا کلمہ پڑھتے ہو اور اس کی اولاد کو اس طرح رولاتے ہو؟
یہ سنتے ہی مسجد میں موجود لوگوں کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آدھی سے زیادہ مسجد کے لوگوں نے تلواریں نکال لیں اور نماز پڑھے بغیر، یزید پر لعنت بھیجتے ہوئے مسجد سے باہر نکل گئے۔ یزید کے لیے نماز جمعہ پڑھانا محال ہو گیا اور اس کا وہ غرور خاک میں مل گیا جس کا جشن وہ دمشق میں منا رہا تھا رسول اللہ کی آل کو قیدی بنا کر۔
واقعے کی تاریخی حیثیت اور مستند حوالے:
یہ واقعہ تاریخِ اسلام اور تاریخِ کربلا کے مستند ترین اور مشہور ترین واقعات میں سے ہے، جسے شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کے جید مورخین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس خطبے اور واقعے کے اہم حوالے درج ذیل ہیں:
1۔ مقتل خوارزمی (علامہ موفق بن احمد خوارزمی، جو کہ بڑے حنفی عالم ہیں)، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 69 اور 71 پر اس پورے خطبے اور واقعے کو تفصیل سے نقل کیا گیا ہے۔
2۔ نفس المہموم (علامہ شیخ عباس قمی)، بابِ مصائبِ شام میں اس واقعے کو جامع مسجد دمشق کے احوال کے تحت تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔
3۔ بحار الانوار (علامہ محمد باقر مجلسی)، جلد نمبر 45، صفحہ نمبر 137 سے 139 تک، امام زین العابدین کے دمشق کے دربار اور مسجد کے خطبے کے عنوان کے تحت یہ واقعہ موجود ہے۔
4۔ کتاب الفتوح (ابن اعثم کوفی)، جلد نمبر 5، صفحہ نمبر 133 پر بھی شام کے حالات اور امام زین العابدین کے کلام کا تذکرہ ملتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ تلوار اور اقتدار کے زور پر سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور امام زین العابدین نے قیدی ہونے کے باوجود اپنے خطبے سے یزیدی ملوکیت کی بنیادیں ہلا دیں۔

الدعاَء
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں