چین نے ایک ایسا منصوبہ مکمل کیا ہے جو واقعی حیران کن بھی ہے اور جدید انجینئرنگ کی بڑی مثال بھی۔
دریائے یانگتزے کے نیچے تقریباً 11 کلومیٹر لمبی ایک سرنگ تیار کی گئی ہے، جس کے اندر سے اب بلیٹ ٹرینیں گزریں گی۔ یعنی اوپر دریا بہہ رہا ہوگا اور نیچے زمین کے اندر سے تیز رفتار ٹرینیں سفر کر رہی ہوں گی۔
یہ ٹرینیں کوئی عام رفتار نہیں رکھتیں بلکہ تقریباً 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔ اتنی تیزی سے دریا کے نیچے سفر کرنا خود میں ایک حیران کن تصور ہے۔
اس سرنگ کی تعمیر میں جدید مشینری اور خاص انجینئرنگ تکنیک استعمال کی گئی، تاکہ پانی کے دباؤ، زمین کی مضبوطی اور حفاظت کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ یعنی صرف رفتار نہیں بلکہ مکمل سیکیورٹی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
اگر اس منصوبے کی لاگت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ باآسانی کئی ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے، یعنی پاکستانی روپوں میں یہ رقم کھربوں روپے بنتی ہے۔ سادہ لفظوں میں، یہ کوئی عام منصوبہ نہیں بلکہ ایک دیوہیکل سطح کا کام ہے جس پر بے پناہ سرمایہ لگایا گیا ہے۔
یہ منصوبہ دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک اب اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ قدرتی رکاوٹوں کو بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے عبور کر رہے ہیں۔ دریا، پہاڑ یا زمین… سب کچھ اب ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں رہا۔
ایسی مثالیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں سفر کے انداز اور فاصلے کی اہمیت دونوں ہی بدلنے والے ہیں۔
پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔
دعا کا طالب