سکھر کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں بڑی کرپشن کا انکشاف
“ویزا پر تعینات ڈاکٹرز اور عملے سے لاکھوں کی وصولی، قادر بخش اور اسد بھٹو ‘اُجلی کالی’ کے مالک”
سکھر (بیورورپورٹ)سکھر کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) علی گل شاہ نے اپنے ملازمین قادر بخش اور اسد اللہ بھٹو کے ذریعے ویزا پر روانہ عملے سے ماہانہ لاکھوں روپے وصول کیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ متعدد ملازمین کو ویزا پر بھیجا گیا جبکہ ضلع کی مختلف اسپتالوں کے لیے آنے والی ادویات کی خریداری میں بھی خرد برد کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈی ایچ او سکھر آفس کا سارا کام کاج ڈی ایچ او علی گل شاہ نے قادر اور اسد بھٹو کے سپرد کر رکھا ہے، جو پورے سکھر ضلع میں ‘اُجلی کالی’ (وائٹ کالر کرپشن) کے مالک بن چکے ہیں۔ یہ دونوں افراد ہر ماہ ویزا پر گئے ملازمین سے لاکھوں روپے کی وصولی کرتے ہیں، نیز سرکاری ادویات کے سلسلے میں بھی بڑی کرپشن کرکے ماہانہ لاکھوں روپے اکٹھے کر رہے ہیں۔سکھر کی سیاسی، سماجی شخصیات اور عام شہریوں نے اس کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سکھر کی کرپشن کا نوٹس لیا جائے، ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کرپشن پر قابو پایا جائے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ویزا پر بھیجے گئے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کو واپس ڈیوٹی پر بلایا جائے اور ادویات کی خریداری میں ہونے والی خرد برد کی شفاف تحقیقات کرائی جائے تاکہ غریب عوام کے لیے خریدی جانے والی دوائیں عام لوگوں تک پہنچ سکیں اور ویزا پر موجود عملہ اسپتالوں میں کام کرکے غریب مریضوں کی خدمت کر سکے۔