16

الہ آباد قصور کی وہ بدقسمت ماں جس کی پھول جیسی تین بیٹوں کو اپنے باپ نے نہر میں پھینک دیا

الہ آباد قصور کی وہ بدقسمت ماں جس کی پھول جیسی تین بیٹوں کو اپنے باپ نے نہر میں پھینک دیا، وجہ غربت تھی یا پرانا عشق ۔۔۔؟؟ خاتون نے خود ساری کہانی بتا دی ۔۔۔۔ خاتون کا شوہر عطائی ڈاکٹر تھا ، اس خاتون سے شادی سے قبل کسی کو پسند کرتا تھا مگر پھر خود منگنی توڑ کر اس خاتون سے شادی کی ، اللہ نے تین بیٹیاں دیں اور ایک بیٹا بڑی بیٹی 9 سال کی تھی درمیانی 5 اور سب سے چھوٹی 3 سال کی اور سب سے چھوٹا چند ماہ کا بچہ ہے ۔۔۔ باپ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرتا تھا کوشش کرتا انکی ہر خواہش پوری کرے مگر اسکی آمدن بہت تھوڑی تھی، وقوعہ کے روز بچے سکول گئے ہوئے تھے ۔ یہ اچانک دوپہر کو گھر آیا تو خاتون کمیٹی لینے محلے میں کسی گھر گئی ہوئی تھی ، جلد یہ بھی واپس آگئی تو شوہر ناراض ہونے لگا اور پوچھا کہاں پھرتی رہتی ہو ، لیکن پھر خود ہی چپ چاپ چلا گیا ، یہ شخص گھر سے سیدھا بچیوں کے سکول گیا وہاں سے انہیں موٹرسائیکل پر بٹھایا اور قریبی بڑی نہر پر لے گیا ، نہر پر اس نے 2 چھوٹی بیٹیوں کو نہر میں پھینک دیا تو بڑی بیٹی بھاگ کھڑی ہوئی ، اس نے بھاگتی ہوئی بیٹی کو ٹانگ میں گو۔لی ماری مگر بچی زخمی ہو کر بھی بھاگتی رہی تو اس نے بچی کی دوسری ٹانگ میں بھی گو۔لی مار دی جب بچی اٹھنے کے قابل نہ رہی تو باپ نے اسے اٹھایا اور لے جاکر نہر میں پھینک دیا ۔ نہر کے قریب کچھ لوگ دیکھ رہے تھے مگر پستو۔ل ہاتھ میں دیکھ کر کسی نے ظالم باپ کو نہ روکا ۔۔۔ بعد میںملزم کو گرفتار کر لیا گیا ، ملزم کی بیوی اس وقت تک اپنی بیٹیوں کے دردناک انجام سے بے خبر تھی چنانچہ وہ شوہر کے قدموں میں گر گئی کہ بے شک شادی کر لینا جس سے کہو گے تمہاری شادی خود کرونگی بچیوں کا خرچہ بھی خود اٹھا لونگی مگر میری بیٹیاں واپس کردو ، لیکن ملزم نے بتایا کہ وہ بچیاں نہر میں پھینک کر ق۔تل کر چکا ہے ۔۔۔ بعد میں ملزم نے پولیس کو بتایا کہ بچیوں کو اس لیے مارا کہ نہیں چاہتا تھا وہ غربت کی وجہ سے رلتی رہیں ۔۔۔۔ یہ واقعہ چند ہفتے پہلے کا ہے اور اب تک اپنی 3 بیٹیوں کے ق۔تل کیس میں ملزم چالان ہو کر جیل پہنچ چکا ہے ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں