19

کسانوں کی امنگوں کے ترجمان — راجہ محمد طارق مسعود ایاز خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

کسانوں کی امنگوں کے ترجمان — راجہ محمد طارق مسعود ایاز

خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

تھل کی وسیع و عریض دھرتی، جس کی خاک میں محنت، صبر اور امید کے چراغ ہمیشہ روشن رہتے ہیں، ہمیشہ سے ایسے لوگوں کو جنم دیتی آئی ہے جو اس خطے کے کسانوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان کی آواز اور ان کی امنگوں کے ترجمان بنتے ہیں۔ انہی عظیم شخصیات میں ایک نام راجہ محمد طارق مسعود ایاز کا ہے—وہ مردِ مٹی، جو کسانوں کے دکھ درد کو صرف سنتا نہیں بلکہ ان کا حل تلاش کرنے کے لیے عملی میدان میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔ راجہ محمد طارق مسعود ایاز جمالی بلوچاں ضلع خوشاب کے قابل فخر سپوت ہیں. وہ یہاں کے نامور علمی شخصیت ، معروف تاریخ دان راجہ حاجی احمد حیات مرحوم کے صاحبزادے ، امریکہ میں مقیم سئنیر قانون دان راجہ محمد اشرف حیات اور پروفیسر راجہ عبدالروف ہمایوں کے بھائ ہیں۔ موصوف نہایت ہردلعزیز اور پروقار شخصیت کے مالک ہیں۔
راجہ محمد طارق مسعود ایاز کی شخصیت کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ کسان کو صرف زمین کا مزدور نہیں سمجھتے بلکہ ملکی معیشت کا ستون اور مستقبل کی غذائی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسان کے چہرے کی خوش حالی دراصل پورے ملک کی مسکراہٹ ہے، اور کسان کے کندھوں پر پڑنے والا بوجھ دراصل قومی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہر فورم، ہر نشست اور ہر گفتگو میں کسانوں کی آواز کو مرکزیت دیتے ہیں۔
تھل کے کاشتکار جن چیلنجز سے نبرد آزما ہیں—مہنگی زرعی ادویات، غیر مستحکم مارکیٹ، پانی کی کمی، ٹریکٹر اور مشینری کے بڑھتے ہوئے اخراجات —راجہ محمد طارق مسعود ایاز ان تمام مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کی جدوجہد صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، تجاویز اور سرکاری نمائندوں تک کسانوں کا مقدمہ پہنچانا ان کا معمول ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے۔
راجہ طارق مسعود ایاز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تھل کا کسان سخت موسم اور کٹھن حالات میں بھی زمین سے تعلق نہیں توڑتا، اسی لیے وہ ہمیشہ کسان کو سہارا دینے، اس کی آواز بالا دست طبقات تک پہنچانے اور اس کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ وہ فصلوں کے مناسب ریٹ، سبسڈی کی بحالی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی اور کسان دوست پالیسیوں کے نفاذ کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔
ان کا وژن ایک ایسے تھل کا ہے جہاں کسان جدید زرعی طریقوں سے آگاہ ہو، جہاں مارکیٹ میں اس کی محنت کا درست معاوضہ ملے، جہاں حکومتی ادارے کسان کے دروازے تک سہولیات پہنچائیں، اور جہاں کسان کو فیصلوں میں شراکت دی جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زرعی ترقی صرف ممکن تب ہے جب کسان کے اعتماد کو بحال کیا جائے اور اسے قومی ترقی کے سفر میں حقیقی شراکت دار بنایا جائے۔
راجہ محمد طارق مسعود ایاز کی محبت اور وابستگی کسانوں سے صرف الفاظ کا حصار نہیں رکھتی، بلکہ عملی جدوجہد کی صورت میں ان کے کردار سے جھلکتی ہے۔ آج تھل کا کسان انہیں اپنے حق کی بات کرنے والے، اس کی مشکلات کو سمجھنے والے اور اس کی امنگوں کو زبان دینے والے ایک سچے رہنما کے طور پر دیکھتا ہے۔
آخر میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر تھل کے کسانوں کی آواز کو کوئی حقیقت میں طاقت دیتا ہے، اگر ان کے دلوں کی دھڑکن بن کر کوئی ان کے مسائل کو مصروفیتوں سے بڑھ کر اولیت دیتا ہے، تو وہ شخصیت راجہ محمد طارق مسعود ایاز ہی ہے— جو تھل کے محنت کشوں کا ترجمان، امید کا چراغ اور کسان دوستی کا روشن استعارہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں