9

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: بہن بھائی کے رشتے ۔۔۔!!* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: بہن بھائی کے رشتے ۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج کے نفسہ نفیسی کے دور میں بھی بہن اپنے بھائیوں کی تکالیف میں مدد کیلئے نہ صرف پہل کر بھٹتی ہیں بلکہ اپنی ضروریات کو بھی لگادیتی ہیں، میری دو بڑی ہمشیرہ کا بھی یہی حال ھے انہیں نہ صرف گھر والوں کیلئے درد احساس بےچینی اور فکر ہمیشہ سے رہی بلکہ بدل میں غیر مناسب رویوں کو بھی برداشت کرتے دیکھا ایک بار میں نے سوال ہی کر ڈالا تھا کہ آپ مخلصانہ مالی مدد کرتی ہیں انہیں میں سے چند احسان فراموشی کر بیٹھتے ہیں مگر آپ اپنے مدد کے عمل کو روکتی نہیں یعنی میری بڑی ہمشیرہ گان نے کمزور مالی حالت سے دوچار خاندان و غیر خاندان کے ماہانہ طے کئے ہوئے ہیں۔ دونوں بہنوں کو اللہ نے صاحب حیثیت و صاحب استطاعت بنایا ھے۔ سب سے بڑی بہن کا تقریباً دو ماہ قبل نماز کی حالت سجدے میں خالق حقیقی سے جاملی اللہ انکی لحد کو اپنے نور سے منور کردے اور نبی پاک ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمادے آمین یارب العالمین۔ آج میں اسی حوالے سے اپنے قلم کو تحریر کررہا ھوں اسی لئے آجکا کالم بہن بھائی کے رشتہ کی اہمیت روحانیت رکھا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! شوشل میڈیا میں اسی مقدس و محترم رشتہ کے حوالہ سے تحریر موجود تھی جو میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ھوں ۔۔۔۔ بہن کی شادی کو چھ سال ہوگئے ہیں، میں کبھی اسکے گھر نہیں گیا، عید شب رات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں، میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی، آپکی بہن جب بھی آتی ہے۔ اسکے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں، خرچ ڈبل ہوجاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں، مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کررہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے، بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کردیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب، ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری، بہن کچھ نہ بولی۔ چار بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس اسٹاپ تک چھوڑ آؤ میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکرائی، نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہورہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا میں زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دونگا بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہوجائے میں بہن کو حصہ نہیں دونگا۔ میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔ بڑا بھائی علیحٰدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہوگئی۔ میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھے، بہت پریشان تھا میں قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ، بھوک سر پہ تھی میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شائد رو رہا تھا حالات پہ، اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آگئی ہے منحوس،
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کیلئے
بیوی میرے پاس آئی، کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کیلئے پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل توں خوامخواں پریشان ہوتا ہے
بچے اسکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے، میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جارہا تھا۔ وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے، میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے۔ شائد اسکی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا پریشان نہ ہوا کر جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہوگئے وہ جلدی سے جانے لگی اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی ہرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی بہہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کردیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا۔ اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شائد کہ انکے چہرے پہ کچھ لمحوں کیلئے ایک سکون آجائے، بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں، اللّٰہ پاک آپ کی اور میری بہنوں کی زندگی لمبی کرے ہر آزمائش اور مصیبت سے محفوظ فرمائے اور دلی سکون نصیب فرمائے آمین۔۔۔۔ معزز قارئین !! مانا کہ مہنگائی بہت ھے اور بیروزگاری بھی بڑھ چکی ھے لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ رشتوں کا تقدس احترام اور تعلق ناپید کردیا جائے اور صرف دولت و ضرورت کو ہی مقام عطا کردیا جائے، حقیقت تو یہ ھے کہ بھائی بہنوں کا سہارا ہوتے ہیں اور بہنوں کی داد رسی کرتے ہیں لیکن اب یہ دیکھا جارھا ھے کہ خاندان میں اگر بڑے بھائیوں کچھ مالدار ہوجائیں تو وہ بیویوں کے تلوؤں میں اس قدر گر جاتے ہیں کہ اپنے خونی رشتوں پر بلاوجہ لعنت گالی اور بد زبانی کرتے تھکتے نہیں اور خودساختہ نفسیاتی طور پر اپنے اوپر اور ذہن میں داخل کرتے کرلیتے ہیں کہ سب ان کی دولت شان و شوکت سے جلتے ہیں حسد کرتے ہیں اور بغض رکھتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا بس سمجھ لیجئے کہ شوہروں کو گھر والوں سے دور رکھنے کیلئے برین واش کیا جاتا ھے اور دوسری جانب اپنی میکے کو حاوی کیا جارھا ہوتا ھے آج یہ تسلسل اور نقشہ اکثر و بیشتر ہر گھر میں پایا جاتا ھے اس بابت ھم من حیث القوم سب کی ذمہ داری بنتی ھے کہ دین محمدی ﷺ کے اصول و ضوابط اور حقوق کی یاد دہانی کراتے ہوئے عمل اختیار کرنے پر زور دیا جائے، دین محمدی ﷺ کل کائنات کا سچا واحد مذہب ھے جہاں سب کے حقوق کیساتھ عدل و انصاف رکھا گیا ھے ۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں