14

ندا خورشید کے قلم سے اگر انڈونیشیا کے دو بوڑھے میاں بیوی باوجود بڑھاپے کے دس لاکھ درخت لگا سکتے ہیں اور اقوام متحدہ انہیں امریکہ بلوا کر اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ؟؟

ندا خورشید کے قلم سے
اگر انڈونیشیا کے دو بوڑھے میاں بیوی باوجود بڑھاپے کے دس لاکھ درخت لگا سکتے ہیں اور اقوام متحدہ انہیں امریکہ بلوا کر اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ؟؟

اگر انڈیا کا غریب سائیکل والا بابا اپنے علاقے کے 1000 کنال کےوسیع رقبے کو ایک گھنے جنگل میں تبدیل کر کے گینیز بُک آف ولڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا سکتا ھے ۔ یہاں تک کہ اس کے علاقے کی خوبصورتی دیکھ کر سنگا پور کے نایاب خوبصورت پرندے سنگا پور جیسے خوبصورت خطے کو چھوڑ کر اسکے علاقے کو رونق بخشتے ہیں ؟؟؟
اگر جنوبی افریقہ کے دو دوست پہلے سے موجود زوما کے جنگل جیسا ایک اور جنگل اُگا سکتے ہیں جو ہمارے چھانگا مانگا سے دوگناہ ھے ؟؟؟
تو تُم پاکستانی بھائیو میرے بچو اور بیٹیو ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟؟ جن کا دین و مذہب بھی ایسی سرگرمی کی حمایت کرتا ھے ۔ جن ککے محبوب نبی و رسول صلی الّلہ علیہ وسلم کی کئی احادیث و فرمان مبارک شجر کاری سے متعلق ہیں سُنو سُنو ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ بھی ھے کہ اگر تمارے ہاتھ میں پودا ہو اور ساتھ ہی دنیا کا آخری وقت آن پہنچے یعنی قیامت کا اعلان ہو جائے پھر بھی جو پودا تمارے ہاتھ میں ھے اسے لگا ہی دو
تماری تو مٹی بھی زرخیز ھے آب و ہوا بھی رحمت بھری ھے ۔ کسی شے کی کمی نہیں ؟؟
پھر جزبے کی کمی کیوں ۔ ہمت کی کمی کیوں ۔ زندہ دلی کی کمی کیوں ۔ فطرت سے محبت اور جنگل کی شادابی سے دل لگی کیوں نہیں ۔ سبز پرچم والی قوم ۔ وطن کو سرسبز و شاداب کر دو ۔

چھاوں چھاوں کر دو ۔ ماں درتی کو تمازت سے بچا لو تاکہ بارشیں ہمارا مقدر ہوں اور پانی کی کمی نہ ہو دریا چشمے بہتے رہیں ۔مخلوق خدا کو راحت و آسائش و سکون ملے ۔ وطن عزیر کو ۔ ماں دھرتی کو ایسے بیٹے یا بیٹی کی تلاش ھے جو اسے سبز پوشاک پہنائے۔۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں